17 اگست 2021 - 13:40
قائد ملت جعفریہ کی جانب سے مرکزی سطح پر محرالحرام کمیٹی تشکیل دی گئی ہے:علامہ عارف حسین واحدی

آئین پاکستان کے آرٹیکل20 کے مطابق تمام مکاتب فکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اپنے عقائد کے مطابق آزادی کیساتھ عبادات اور رسومات ادا کریں۔علامہ عارف حسین واحدی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجدعلی نقوی کی جانب سے مرکزی سطح پرمحرالحرام کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پاکستان بھرمیں عزاداری کے مسائل ومشکلات پر مسلسل نگاہ رکھے ہوئے ہے اس کے ساتھ ساتھ مرکز میں عزاداری مانیٹرنگ سیل قائم ہے جوچوبیس گھنٹے کام کررہا ہے

علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل20کے مطابق تمام مکاتب فکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اپنے عقائدکے مطابق آزادی کیساتھ عبادات اور رسومات ادا کریں جبکہ اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلے ہیں کہ کوئی ایگزیکٹوآرڈریا SOP عوام کے بنیادی حقوق کوغصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ 2اگست2021ء کو صدر وزیراعظم،وفاقی وزیر داخلہ،وفاقی سیکرٹری داخلہ،کوآرڈینیٹر نیکٹا،صوبائی گورنرز،وزرائاعلیٰ،چیف سیکرٹریز،ہوم سیکرٹریز،آئی جیز پولیس کو امن و امان کے قیام،ذمہ دارعلمائکرام کی اضلاع میں داخلہ و زبان بندی، مجالس اور جلوس ہائے عزا پر بے جا پابندیوں،رکاوٹوں،محدودیت، طلبی ضمانتی بانڈز اور NOCکی شرائط جیسے اقدامات سے گریزاور چاردیواری کے اندر روایتی مجالس و جلوسوں کی سکیورٹی یقینی بنانے اور گذشتہ سالوں میں جھوٹی و بلا جواز FIRsاور فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے افراد کے ناموں کے اخراج کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و متعلقہ اداروں کو پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا پرفلسفہ شہادت نواسہ رسول اکرم حضرت امام حسینؑ اور اُن کے آل ؑو اصحاب عظیم قربانی کے اعلیٰ و ارفع مقاصد سے آگاہی کیلئے خصوصی پروگرامز نشر اور ٹیلی کاسٹ کے خطوط بھی ارسال کیے گئے تھے تاحال کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ وطن عزیز میں متعدد تقریبات،جلوس اور ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں مجالس حضرت امام حسین ؑ وجلوس ہائے عزا میں رکاوٹیں ڈالنا ایک خاص ذہنیت کی عکاسی ہے ملک بھربالخصوص پنجاب میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز، غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات اور اعلیٰ عدلیہ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی، ذمہ دار علمائ کرام کی اضلاع میں داخلہ و زبان بندی،جھوٹی وبوگس رپورٹس کو بنیادبنا کربانیان مجالس و جلوس عزا سے زبردستی ضمانتی بانڈزکی طلبی، برسوں سے جاری روایتی پروگرامز کو محدود یا ختم کرنے، اندر چاردیواری مجالس عزاکے انعقاد پر دھونس دھاندلی،دھمکی اور توہین و تضحیک آمیز رویے کے ساتھ ساتھ فورتھ شیڈول میں ڈالنے،گرفتاریاں اورنظر بندیاں بھی کی جا رہی ہیں جو بلا جواز اور توہین آمیز ہیں۔پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں سالہا سال سے جاری روایات کے برعکس ایسا کیا جار ہا ہے۔ان اقدامات کی وجہ سے ملک بھر میں شدیدغم و غصہ، اشتعال و اضطراب اور تشویش پائی جاتی ہے۔

عارف واحدی کا مزید کہنا تھا کہ آپکی وساطت سے حکمرانوں اورسرکاری اہلکاروں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ قائداعظم کے وژن کے مطابق جن مقاصدکومدنظر رکھتے ہوئے 14اگست 1947کوپاکستان معرض وجودمیں لایاگیاتھا مذکورہ زیادتیاں ان مقاصدکے سراسرخلاف اورمتصادم ہیں۔ ملک کے پرامن حالات کو خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے حکمران، تکفیری مائنڈ سیٹ اہلکاران کو تکفیری ایجنڈے پر عمل درآمد کرانے سے باز رکھیں اورایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں اورچھپے تکفیری مائنڈ سیٹ اہلکاران کی جگہ آئین و قانون کی پاسداری کرنے والے ذمہ دار اہلکاران کو تعینات کیا جائے تاکہ کسی غلط رپورٹنگ کے نتیجہ میں ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے سے بچایا جاسکے اگرحکومت نے صورتحال میں بہتری نہ لائی، غیرآئینی و غیر قانونی اقدامات کا یہ سلسلہ جاری رکھا اورعزاداری کیخلاف حکومتی کریک ڈاون نہ رکا تو جلوس ہائے عزا کو دھرنوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہ سکتے ہیں ہمیں جیل بھروتحریک پر مجبور نہ کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲